حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کی شادی کا مکمل واقعہ

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے فاطمہ انسانی حور ہے مروی ہے کہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ نے ایک دن سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں جنتی پھل دیکھنے کی خواہش کی تو حضرت جبرئیل علیہ السلام جنت سے دو سیب لے کر حاضر ہوگئے اور عرض کی اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدائے رحمٰن جس نے ہر شے کا اندازہ کر رکھا ہے وہ فرماتا ہے کہ ایک سیب آپ فرمائیں اور دوسرا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ کو کھلا دیں پھر حق زوجت ادا کریں میں تم دونوں سے فاطمہ زہرا کو پیدا کروں گا چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرائیل السلام کے کہنے کے مطابق عمل کیا۔ جب کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ ہمیں چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھا دیں۔ ان دنوں حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ عنہا کو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حمل ٹھہر چکا تھا۔ جب مدت حمل پوری ہوئی۔ اور حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو ساری فضا آپ رضی اللہ عنہا کے چہرے کے نور سے منور ہو گئے۔ نور کے پیکر تمام نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب جنت اور اس کی نعمتوں کا اشتیاق ہوتا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کا بوسہ لے لیتے اور ان کی پاکیزہ خوشبو کو سونگھتے اور جب ان کی پاکیزہ مہک سونگھتے تو فرماتے فاطمہ انسانی حور ہے جب حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا شادی کی عمر کو پہنچی تو نیک حسرت ذہنوں میں آپ رضی اللہ عنہا کا خیال آیا مہاجرین معززین نے پیغام نکاح دیا لیکن رضائے الہی کے ساتھ مخصوص ذات نے انکار کرتے ہوئے فرمایا میں خدائی فیصلے کا منتظر ہوں فاطمہ کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ایک دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں تشریف فرما تھے کہ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر چل نکلا حضرت ابو صدیق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا تمام معززین نے پیغام نکاح عرض کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کرتے ہوئے یہی ارشاد فرمایا کہ یہ معاملہ اللہ کے ذمے ہے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پیغام نکاح عرض نہیں کیا اور نہ ہی اس کا تذکرہ کیا میرا خیال ہے کہ انہوں نے غربت کے سبب ایسا نہ کیا ہو میرے دل میں یہ بات آتی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہ کا معاملہ شاید اسی لیے روکا ہوا ہے پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں کہ ہم علی کے پاس چلیں اور ان سے شہزادی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ذکر کریں اگر انہوں نے تنگ دستی کی وجہ سے انکار کیا تو ہم ان کی مدد کریں گے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی اے ابوبکر اللہ آپ کو اس کام کی توفیق عطا فرمائے پھر یہ سب مسجد نبوی سے نکل کر حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی تلاش میں ان کی مسجد میں جا پہنچے لیکن ان کو وہاں نہ پایا معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت کسی انصاری کے باغ میں اجرت پر اونٹوں کے ذریعے پانی نکالنے میں مصروف ہیں تو یہ تینوں صحابی ان کی جانب چل دیے جب حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ان تینوں صحابیوں کو دیکھا تو پوچھا کیا معاملہ ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اے علی بات یہ ہے کہ قریش کے معززین نے بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیغام نکال دیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ یہ معاملہ اللہ کے ذمے ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے اندر ہر اچھی عادت موجود ہے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رشتہ دار بھی ہیں تو آپ کے لیے اس میں کیا رکاوٹ ہے مجھے امید ہے کہ اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا معاملہ آپ کے لیے روکا ہوا ہے حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور عرض کرنے لگے اے ابوبکر آپ نے مجھے ایسے کام پر ابھارا ہے جو رکا ہوا تھا اور مجھے ایسے کام کی طرف متوجہ کیا جس سے میں غافل تھا اللہ کی قسم مجھے شہزادی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پسند ہیں اور رشتے کے لیے میرے جیسا اور کوئی نہیں لیکن غربت نے مجھے اس سے روک رکھا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے علی ایسا نہ کہو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دنیا اور جو کچھ بھی ہے اڑتے غبار کی مانند ہے پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اونٹ کھولا اور اپنے گھر چل دیے گھر جا کر اونٹ باندھا اور جوتے پہن کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی طرف چل دیے دروازہ کھٹکھٹایا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کون سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ وہ ہے جس سے اللہ اور اس کا رسول محبت کرتا ہے اور یہ بھی ان سے محبت کرتا ہے حضرت سیدنا ام کلثوم رضی اللہ عنہ نے عرض کی میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ کون ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ میرا بھائی ہے اور مجھے ساری مخلوق سے بڑھ کر پیارا ہے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں میں اس تیزی سے اٹھی کہ چادر میں الجھنے لگی تھی۔ میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے اندر آ کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا بیٹھو۔ آپ رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے اور زمین کھریدنے لگے۔ گویا کوئی حاجت عرض کرنے میں حیا کر رہے ہوں۔ سرکار دو صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے علی کوئی کام ہے تو بتاؤ ہمارے ہاں تمہاری ہر حاجت پوری ہوگی حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ جانتے ہیں کہ آپ نے مجھے اپنے چچا اور چچی بنت اسد سے لیا میں اس وقت ایک ناسمجھ بچہ تھا آپ نے مجھے ادب سکھایا مجھے شائستہ بنایا آپ نے مجھ پر میرے ماں باپ سے بڑھ کر شفقت و احسان فرمایا اللہ نے مجھے آپ کے ذریعے ہدایت بخشی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا اور آخرت میں آپ میرا وسیلہ اور ذخیرہ ہیں اور میں یہ پسند کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے میرے پشت پناہی اس طرح فرمائے کہ میرا بھی ایک گھر اور بیوی ہو جس میں چین حاصل کروں یہی غرض لیے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں یا رسول اللہ کیا آپ اپنے لخت جگر حضرت فاطمہ کا نکاح میرے ساتھ کرنا پسند فرمائیں گے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے دیکھا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا پھر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کو مسکرا کر دیکھا اور فرمایا اے علی کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جسے تم فاطمہ کا حق مہر ادا کر سکو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض فرمایا اللہ کی قسم یا رسول اللہ میری حالت آپ سے پوشیدہ نہیں آپ جانتے ہیں کہ میں ایک ذرہ تلوار اور پانی لانے والے اونٹ کے علاوہ کسی چیز کا مالک نہیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنی تلوار سے تو تم اللہ کی راہ میں جہاد کرو گے لہذا اس کے بغیر گزارا نہیں اور اونٹ سے اپنے گھر والوں کے لیے پانی بھر کر لاؤ گے اور سفر میں بھی اس پر اپنا سامان لا دو گے لیکن ذرہ کے بدلے میں اپنی بیٹی کا نکاح تجھ سے کرتا ہوں اور میں تجھ سے خوش ہوں اور اے علی تجھے مبارک ہو اللہ نے زمین پر فاطمہ سے تمہارا نکاح کرنے سے پہلے آسمان پر تم دونوں کا نکاح کر دیا ہے اور تیرے آنے سے پہلے آسمانی فرشتہ میرے پاس حاضر ہوا جس کو میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا اس کے کئی چہرے اور پر تھے اس نے آ کر عرض کیا کہ پاکیزہ ملن اور پاکیزہ نسل کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بشارت ہو میں نے پوچھا اے فرشتے کیا کہہ رہے ہو اس نے جواب دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سبطائیل ہوں اور عرش کے ایک پائے پر مقرر ہوں میں نے اللہ کی بارگاہ میں گزارش کی کہ وہ مجھ کو اجازت دیں کہ میں آپ کو بشارت سناؤں اور حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی میرے پیچھے پیچھے فضل و کرم الہی کی خبر لے کر آپ کے پاس پہنچنے والے ہیں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ابھی اس فرشتے نے اپنی بات پوری نہیں کی تھی کہ جبرائیل امین علیہ السلام نے آ کر سلام عرض کیا اور ایک سفید ریشم کا ٹکڑا میرے ہاتھوں پر رکھ دیا جس میں دو لائنیں تھیں میں نے پوچھا اے میرے دوست یہ خط کیسا ہے کس نے لکھا ہے انہوں نے بتایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ نے دنیا پر نظر رحمت فرمائی اور اپنی رسالت کے لیے مخلوق میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتخاب فرمایا اور آپ کے لیے ایک حبیب بھائی دوست اور وزیر چن کر اس کے ساتھ آپ کی بیٹی حضرت فاطمۃ کا نکاح فرما دیا ہے میں نے پوچھا اے جبرائیل ذرا یہ تو بتاؤ یہ میرا حبیب ہے کون اس نے جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چچا زاد اور دینی بھائی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہے اور اللہ نے ساری جنتوں اور حوروں کو آراستہ پیراستہ ہونے شجرہ توبہ کو زیورات سے مزین ہونے اور ملائکہ کو چوتھے آسمان پر بیت المعمور کے پاس جمع ہونے کا حکم دیا ہے اور رضوان نے اللہ کے حکم سے بیت المعمور کے دروازے پر ممبر کرامت رکھ دیا ہے یہ وہی منبر ہے کہ جب اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام اشیاء کے نام سکھائے تھے تو انہوں نے اس پر خطبہ دیا تھا اللہ کے حکم سے اس ممبر پر راحیل نامی فرشتے نے اللہ کے شایان شان حمد و ثناء کی تو آسمان جھوم اٹھا پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا اللہ نے مجھے وہی فرما دی کہ میں نے اپنے محبوب بندے علی کا نکاح اپنی محبوب بندی اور رسول کی بیٹی سے کر دیا ہے تم ان کا عقد نکاح کر دو۔ پس میں نے عقد نکاح کر دیا اور اس پر فرشتوں کو گواہ بنایا۔ اور ان کی گواہی اس ریشم کے ٹکڑے میں لکھی ہوئی ہے۔ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہ خط آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور پیش کروں۔ اس پر سفید کستوری کی مہر لگا کر دروغہ جنت رضوان کے حوالے کر دوں۔ اللہ نے ملائکہ کو اس نکاح پر گواہ بنایا تو شجرہ طوبی کو حکم دیا کہ وہ اپنے زیورات بکھیرے جب اس نے زیورات کی بوچھاڑ کی تو ملائکہ اور حوروں نے سب زیورات چن لیے اور حوریں قیامت تک یہ زیورات ایک دوسرے کو تحفے میں دیا کریں گی اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ سے یہ عرض کروں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر حضرت فاطمۃ الزہرا کی شادی حضرت علی سے کر دیں اور مجھے یہ بھی حکم ملا ہے کہ حضرت فاطمۃ الزہرا کو دو ایسے شہزادوں کی بشارت دوں جو انتہائی ستھرے عمدہ خصائل اور عمدہ فضائل کے حامل ہوں گے پاکیزہ فطرت اور دونوں جہانوں میں بھلائی والے ہوں گے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے علی ابھی فرشتہ بلند نہ ہوا تھا کہ تم نے دروازے پر دستک دے دی میں تمہارے متعلق حکم الہی نافذ کر رہا ہوں تم مسجد میں جاؤ میں بھی آ رہا ہوں میں لوگوں کی موجودگی میں تمہارا نکاح کروں گا اور تمہارے وہ فضائل بیان کروں گا جن سے تمہاری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں بارگاہ رسالت سے نکلا تو میں بہت خوش تھا راستے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی انہوں نے پوچھا اے علی خیریت تو ہے کیا ہوا ہے کہ تم اتنی جلدی میں ہو تو میں نے بتایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نکاح اپنی شہزادی سے کر دیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ اللہ نے میرا نکاح آسمانوں میں کیا ہے اب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پیچھے پیچھے مسجد میں تشریف لا کر اس کا اعلان فرمائیں گے وہ دونوں بھی یہ سن کر بہت خوش ہوئے اور مسجد کی طرف چل دیے جب مسجد میں سب لوگ جمع ہو گئے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ممبر اقدس پر جلوہ افروز ہو کر اللہ کی حمد و ثناء کی اور ارشاد فرمایا اے مسلمانوں ابھی ابھی حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور یہ خبر دی کہ اللہ نے بیت المعمور کے پاس ملائکہ کو گواہ بنا کر میری بیٹی فاطمہ اور علی کا نکاح کر دیا ہے اور مجھے بھی حکم فرمایا کہ میں زمین پر نکاح کر دوں؟ میں تم سب کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی بیٹی کا نکاح علی سے کر دیا ہے۔ اس کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا۔ اے علی کھڑے ہو کر خطبہ نکاح پڑھو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا کی اور یہ خطبہ فرمایا۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اس کے انعامات و احدانات پر اس کا شکر ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں آپ نے فرمایا نکاح اللہ کے حکم پر عمل ہے اور اللہ نے اس کی اجازت دی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی شہزادی حضرت فاطمۃ الزہرا کا نکاح مجھ سے کر دیا ہے اور میری اس ذرہ کو بطور حق مہر مقرر فرمایا ہے میں اور آپ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر راضی ہیں۔ تم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ لو اور گواہ بن جاؤ تو سب مسلمانوں نے کہا اللہ تمہارے جوڑے میں برکت عطا فرمائے اور تمہیں اتفاق عطا فرمائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنی ذرہ لی اور بازار میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو چار سو درہم میں فروخت کر دی۔ جب مجھے درہم مل گئے اور ان کو ذرا مل گئی تو مجھ سے فرما نے لگے اے علی! کیا اب میں آپ سے زیادہ ذرہ کا اور آپ مجھ سے زیادہ درہم کے حقدار نہیں ہیں؟ میں نے کہا کیوں نہیں؟ تو کہنے لگے پھر یہ ذرا میری طرف سے آپ کو ہدیہ ہے.حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں. میں نے ذرہ اور درہم لیے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حسن سلوک کی خبر دی. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں خیر و برکت کی دعا عطا فرمائی حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں جب مہینہ گزر گیا تو میرے بھائی حضرت عقیل رضی اللہ عنہ میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے اے میرے بھائی آج تک میں اتنا خوش نہیں ہوتا جتنا یہ سن کر خوش ہوا ہوں کہ تمہاری شادی بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گئی ہے اب اگر آپ ان کو اپنے گھر لے آئے تو اس سے ہمارے دل خوش ہوں گے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ کی قسم میں بھی یہی چاہتا لیکن مجھے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے شرم آتی ہے انہوں نے کہا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ چلیے لہذا حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں ملاقات کے ارادے سے گھر سے نکلے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر مبارک پہنچے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو تمام ازواج مطہرہ اندر کمرے میں تشریف لے گئیں میں آپ کے سامنے سر جھکا کر بیٹھ گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم اپنی زوجہ کے ساتھ رہنا چاہتے ہو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بڑی محبت و عزت سے انشاءاللہ آج رات سے تم اپنی زوجہ کے ساتھ رہا کرو گے حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس سے خوشی کی حالت میں اٹھا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہ کو آراستہ ہونے کا حکم دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دس درہم دیے اور ارشاد فرمایا ان سے کھجور, گھی اور پنیر خرید لو.آپ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں میں یہ چیزیں خرید کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگیا. آپ نے چمڑے کا دسترخوان منگوایا. اور آستینیں چڑھا کر کھجوروں کو گھی میں مسلنے لگے اور پھر پنیر کے ساتھ اس طرح ملایا کہ وہ حلوہ بن گیا. پھر ارشاد فرمایا. اے علی جسے چاہو بلا لاؤ. میں مسجد میں گیا.اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کو بلایا۔ سب لوگ اٹھ کر چل دیے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا کہ لوگ بہت زیادہ ہیں۔ آپ نے چمڑے کے دسترخوان کو ایک رومال سے ڈھانک دیا اور فرمایا دس دس افراد کو داخل کرتے جاؤ۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین کھا کر نکلتے گئے لیکن کھانے میں بالکل کمی نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ سات سو افراد نے وہ حلوہ کھا لیا۔ اس کے بعد حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پاس بلایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے دائیں اور حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہ کو اپنے بائیں طرف بٹھا کر سینے سے لگایا۔ اور دونوں کی آنکھوں کے درمیان پیشانی پر بوسہ دیا اور پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حضرت علی رضی عنہ کے حوالے کر دیا اور ارشاد فرمایا اے علی میں نے کتنی اچھی زوجہ سے تمہارا نکاح کر دیا ہے پھر ان دونوں کے ساتھ ان کے گھر تک پیدل چلے پھر گھر سے باہر نکل کر دروازے کے کباڑ پکڑے اور یہ دعا فرمائی اللہ تم دونوں کو اتفاق و اتحاد عطا فرمائے میں تم دونوں کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور تم دونوں کو اس کی حفاظت میں دیتا ہوں