حضرت محمد ﷺ اور ایک شہد کی مکھی کا واقعہ

دوستوں ایک دن آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسلامی لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے تشریف لے جا رہے تھے راستے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا اور حکم دیا کہ یہیں پر جو کچھ کھانا ہے کھا لو جب کھانا کھا نے گئے تو صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روٹی کے ساتھ سالن نہیں ہے پھر صحابہ نے دیکھا کہ ایک شہد کی مکھی ہے اور بڑے زور زور سے بھن بناتی ہے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ مکھی کیوں شور مچاتی ہے فرمایا یہ کہہ رہی ہے کہ مکھیاں بے قرار ہے اس وجہ سے کہ صحابہ کرام کے پاس سالن نہیں ہے حالانکہ یہاں قریب ہی غار میں ہم نے شہد کا چھتا لگایا ہوا ہے وہ کون لائے کیونکہ ہم تو اسے لا نہیں سکتے پھر فرمایا پیارے علی رضی اللہ تعالی عنہ اس مکھی کے پیچھے پیچھے جاؤ اور شہد لے آؤ لہذا حضرت حیدر کرار رضی اللہ تعالی عنہ ایک پیالہ پکڑ کر اس کے پیچھے ہو لیے وہ مکھی آگے آگے اس غار میں پہنچ گئی اور آپ نے وہاں جا کرسارا شہد نچوڑلیا اور دربار رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہو گئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ شہد تقسیم فرما دیا جب صحابہ کرام کھانا کھانے لگے تو مکھی پھر آ گئی اور بن بنانا شروع کر دیا صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ مکھی پھر اسی طرح شور کر رہی ہے تو فرمایا میں نے اس سے ایک سوال کیا ہے اور یہ اس کا جواب اب دے رہی ہے میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری خوراک کیا ہے مکھی کہتی ہے کہ پہاڑوں اور بیابانوں میں جو پھول ہوتے ہیں وہ ہماری خوراک ہیں ہم نے پوچھا پھول تو کڑوے بھی ہوتے ہیں پھیکے بھی بدمزہ بھی ہوتے ہیں تو تیرے منہ میں جا کر نہایت شیریں اور صاف شہد کیسے بن جاتا ہے تو مکھی نے جواب دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا ایک امیر اور سردار ہے جب ہم پھولوں کا رس چوستے ہیں تو ہمارا امیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مقدسہ پر درود پاک پڑھنا شروع کرتا ہے اور ہم بھی اس کے ساتھ مل کر درود پاک پڑھتی ہیں تو وہ بدمزہ اور کڑوے پھولوں کا رس درود پاک کی برکت سے میٹھا ہو جاتا ہے اور اسی کی برکت و رحمت کی وجہ سے وہ شہد شفا بن جاتا ہے قرآن کریم میں ہے کہ بے شک اللہ تعالی اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والوں تم بھی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو اللہ تعالی فرماتے ہیں جو شخص ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے تو میں اس پر دس بار رحمت بھیجتا ہوں
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہر مہینے تین دن تک صبح میں شہد چاٹے تو اس کو کوئی بڑی مصیبت نہیں پہنچے گی بلکہ ایک آدمی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور کہا میرا بھائی پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو گیا ہے آپ نے فرمایا اس کو شہد پلاؤ وہ دوسری بار آیا تو پھر آپ نے اس کو شہد کی تاکید کی اسی طرح تیسری مرتبہ بھی جب چوتھی بار بھی آ کر اس نے شکایت کی تو رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے بھائی کا پیٹ تو جھوٹا ہو سکتا ہے لیکن اللہ کا کلام تو سچا ہی ہے اس کو پھر شہد پلاؤ اس نے اس مرتبہ جا کر جب شہد پلایا تو اس کو شفا نصیب ہو گئی