کتنی پر اثر ہوتی ہیں وہ شدتیں جو ہمیں تہجد تک کھینچ لاتی ہیں

کتنی پر اثر ہوتی ہیں وہ شدتیں جو ہمیں تہجد تک کھینچ لاتی ہیں تیرے کن پر یقین ہے میرے اللہ اسی لئے میری دعاؤں کا سلسلہ قائم ہے ابھی تک اور جانتے ہو سکون کیا ہے اپنے رب سے اکیلے میں بیٹھ کر گفتگو کرنا اور پتا ہے محبت کیا ہے نماز سے کسی کو تہجد پر لے آنا ایک درد بھری رات اللہ کے روبرو بیٹھ کر گزار دی جائے

تو کی باقی راتیں جاگ کر گزارنی نہیں پڑتی جب تمہیں کوئی امید نظر نہیں آتی تو وہ تمہیں تہجد کی لگن لگا دیتا ہے اور ایک نئی امید جگا دیتا ہے تمہیں کیا لگتا ہے جب رات سونے کے لیے بنائی گئی ہے اور ہر شخص سکون کی نیند سو رہا ہے تو کیا وہ تمہیں بلاوجہ جگائے ہوئے ہیں نہیں یہ طرف اللہ نے پیدا کی ہے ہر چیز نصیب کا حصہ ہے پھر چاہے غم یا خوشی ہم سوچتے ہیں کہ ہم خود اللہ کی جانب جاتے ہیں.

حالانکہ ہمیں تو اس کی جانب بلایا جاتا ہے. تہجد سے تقدیر بدل جاتی ہے. تم راتوں کو اٹھ کر اللہ سے مانگو تو سہی. جو کہانی تہجد تک پہنچ جاتی ہے. پھر وہ کبھی ادھوری نہیں رہتی. چاہت سے نصیب تک کا جو فاصلہ ہے. وہ بس دعا کا ہے.

جب تمہارے ذہن میں تہجد پڑھنے کا خیال بار بار آرہا ہو تو سمجھ جاؤ کہ تمہاری دعاؤں کو قبولیت کا پروانہ مل چکا ہے. تمہاری دعائیں قبولیت کا درجہ پا چکی ہے. تم بس دعا مانگو باقی اس پر چھوڑ دو. کیا پتہ اسے تمہارا مانگنا اتنا پسند ہو کہ وہ تمہیں اور سننا چاہتا ہو.

Scroll to Top