نمازی اور شیطان کا واقعہ
1 min read

نمازی اور شیطان کا واقعہ

ایک شخص اندھیری رات میں نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکلا۔ اندھیرے کی وجہ سے اسے ٹھوکر لگ گئی اور وہ منہ کے بل گر گیا۔ کیچڑ سے اٹھ کر وہ گھر واپس آیا اور لباس تبدیل کر کے دوبارہ مسجد کی طرف چل دیا۔ ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ دوبارہ اسے ٹھوکر لگی اور وہ دوبارہ گر گیا۔

کیچڑ سے اٹھ کر وہ پھر دوبارہ اپنے گھر گیا لباس بدلا اور مسجد جانے کے لیے دوبارہ گھر سے نکلا۔ جیسے ہی وہ اپنے گھر سے باہر نکلا۔ تو اس کے دروازے پر اسے ایک شخص ملا جو اپنے ہاتھ میں روشن چراغ تھامے ہوئے تھا۔ چراغ والا شخص چپ چاپ نمازی کے آگے مسجد کی طرف چل دیا۔ اس مرتبہ چراغ کی روشنی میں نمازی کو مسجد پہنچنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

وہ خیریت سے مسجد پہنچ گیا۔ مسجد کے دروازے پر پہنچ کر چراغ والا شخص رک گیا۔ نمازی اسے چھوڑ کر مسجد داخل ہوگیا اور نماز ادا کرنے لگا۔ نماز سے فارغ ہو کر وہ مسجد کے باہر آیا۔ چراغ والا شخص اس کا انتظار کر رہا تھا۔ تاکہ اس نمازی کو چراغ کی روشنی میں گھر چھوڑ آئے۔

جب نمازی گھر پہنچ گیا تو نمازی نے اجنبی شخص سے پوچھا۔ آپ کون ہو؟ اجنبی بولا سچ بتاؤں تو میں ابلیس ہوں۔ نمازی کی تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔ نمازی سوچنے لگا ابلیس شیطان کیسے مجھے مسجد تک چھوڑ سکتا ہے۔ اس کا کام تو لوگوں کو بہکانا ہے۔ تو اس شخص نے بڑی حیرت کے ساتھ ابلیس سے پوچھا: تجھے تو میری نماز رہ جانے پہ خوش ہونا چاہیے تھا۔

تو پھر تم چراغ کی روشنی میں مجھے مسجد تک کیوں لے گئے؟ ابلیس نے جواب دیا جسے سن کر وہ شخص بھی حیران رہ گیا اور آپ سب بھی حیرت میں پڑ جائیں گے۔ ابلیس نے جواب دیا کہ جب تمہیں پہلی ٹھوکر لگی۔ تو اللہ تعالی نے تیرے سارے گناہ معاف فرما دیے۔ سبحان اللہ

جب تجھے دوسری ٹھوکر لگی تو اللہ تعالی نے تیرے پورے خاندان کو بخش دیا۔ مجھے فکر ہوئی کہ اگر اب تو ٹھوکر کھا کر گر گیا۔ تو اللہ تعالیٰ تیرے سارے گاؤں کی مغفرت نہ فرما دے۔ اس لیے چراغ لے کر آیا ہوں کہ تم بغیر گرے مسجد تک پہنچ جاؤ۔

اس شخص نے جیسے ہی یہ بات سنی۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنا سر جھکا کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ تو دوستوں یہ ہے اللہ تعالیٰ کی شان پروردگار عالم کی راہ میں کوئی شخص ایک قدم بڑھاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی ستر قدم قریب ہو جاتا ہے۔