غربت، تنگدستی ختم کرنے کا آسان سا وظیفہ

امام جعفر صادق علیہ السلام اللہ کے بندوں کو درس اخلاق دے رہے تھے اتنے میں آپ فرمانے لگے اے لوگوں جب تم دنیا کی مفلسی سے تنگ آ جاؤ اور رزق کا کوئی رستہ نظر نہ آئے پریشانیاں بڑھنے لگیں مصیبتوں میں پھنسنے لگو تو صدقہ دے کر اللہ سے تجارت کر لو کیونکہ میں نے اپنے بابا انہوں نے اپنے بابا انہوں نے اپنے بابا اور انہوں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ جو انسان صدقہ دیتا ہے

تو اللہ اس کی تمام کو اس کی زندگی سے مٹا دیتا ہے تو کسی نے عرض کیا اے نواسہ رسول اگر دامن میں اتنی وسعت نہ ہو کہ صدقہ دے سکے تو امام جعفر صادق علیہ سلام نے فرمایا صدقہ صرف کسی چیز کے دینے کو نہیں کہتے بلکہ اللہ کی مخلوق کو خوشی پہنچانے کو کہتے ہیں یاد رکھنا جو انسان اپنے دامن میں اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ وہ کسی انسان کو صدقے کی نیت سے کھانا کھلا سکے

تو وہ یہ نہ سوچے کہ وہ کسی کو دے نہیں سکتا کیونکہ کسی انسان کو دیکھ کے مسکرانا بھی صدقہ ہے کسی انسان کو معاف کرنا بھی صدقہ ہے کسی انسان کو اچھا مشورہ دینا بھی صدقہ ہے اپنے ماں باپ کے ساتھ کچھ وقت محبت کے ساتھ گزارنا بھی صدقہ ہے اپنی اولاد کو اچھی نصیحت کرنا بھی صدقہ ہے اے شخص اللہ ہر اس انسان کی تمام مصیبتوں کو ختم کر دیتا ہے

جو اللہ کے کسی بھی بندے کو خوشی دیتا ہے کیونکہ جب کوئی اللہ کے کسی بندے کو خوشی دیتا ہے تو اللہ اپنے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اس میرے بندے کی تمام مصیبتوں کو ختم کر دو اور جیسے یہ میرے بندوں کو خوش رکھنا چاہتا ہے ویسے ہی وہ تمام خوشیاں اسے دے دو جو یہ اپنے لیے چاہتا ہے تمام خوشیاں اسے دے دو جو یہ اپنے لیے چاہتا ہے

Scroll to Top