رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا یہ واقعہ نہیں سنا تو زندگی فضول ہے
1 min read

رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا یہ واقعہ نہیں سنا تو زندگی فضول ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دفعہ سفر کر رہے تھے کہ آپ نے اپنے ساتھیوں سمیت ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ اس علاقے میں ایک عورت تھی۔ جس نے سارے لشکر کے لیے روٹیاں تیار کیں۔ جب وہ فارغ ہو گئی تو اس نے صحابہ کرام سے عرض کیا کہ میں اپنے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملنا چاہتی ہوں۔

صحابہ کرام اس عورت کو آپ کے پاس لے گئے۔ جب یہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہوئی۔ تو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا ایک بچہ ہے۔ میں جب بھی تنور پر روٹیاں تیار کرتی ہوں۔ تو میرا بچہ میرے پاس آ جاتا ہے۔ میں اپنے بچے کو تنور کے پاس نہیں آنے دیتی کہ کہیں میرے بچے کو آگ کی گرم ہوا بھی نہ لگ جائے۔

کیوں کہ میں ماں ہوں نا ماں کا دل بہت نرم اور نازک ہوتا ہے۔ وہ اپنی پیدا کی ہوئی اولاد کو کس طرح سے مشکل میں دیکھ سکتی ہے۔ میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالی ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ جب اللہ تعالی ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ تو خدا ہم کو کس طرح سے جہنم میں ڈالے گا۔

حدیث پاک میں ہے کہ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد نے اس عورت کی بات کو سنا اور سر جھکا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے زار و قطار آنسو بہنے لگے۔ رسول کریم اتنا روئے اتنا روئے کہ اللہ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لے آئے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یا رسول اللہ اللہ کا حکم ہے کہ اس عورت کو فرما دیجیے کہ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا۔

انہوں نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا ہے۔ اللہ تعالی تو چاہتا ہے کہ میرا بندہ مجھ سے مانگے کیا مانگتا ہے؟ میں اس کو عطا کے لیے تیار ہوں۔ یہ لوگ خود توبہ نہیں کرتے یہ لوگ شیطان کی باتیں مانتے ہیں۔ یہ تو اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ ہی نہیں کرتے۔ یہ تو اللہ تعالی کو بھول چکے ہیں۔ یہ لوگ اپنے عمل کی وجہ سے دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم نے فرمایا میری پوری امت جنت میں جائے گی۔ لیکن جو انکار کرے گا۔ وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ عرض کیا گیا جنت جانے سے کون انکار کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا۔ جس نے میری اطاعت نہ کی وہ جہنم کی آگ میں بھڑکے گا۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک بار چند فرشتے رسول اللہ کے کے پاس تشریف لائے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو رہے تھے۔ ان فرشتوں نے ایک دوسرے سے فرمایا کہ تمہارے ساتھی کے لیے ایک مثال ہے۔ انہی میں سے کچھ فرشتوں نے فرمایا کہ رائے دے کہ یہ سو رہے ہیں۔ کچھ نے کہا کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں۔ ان کا دل جاگتا رہتا ہے۔ چند فرشتوں نے کہا ان کی مثال اس بندے جیسی ہے۔ جس نے ایک گھر بنایا اور اس گھر میں کھانے کی ایک دعوت کا انتظام کیا اور ایک بلانے والے کو بھیجا۔

تو جس نے اس بلانے والے کی بات مانی وہ گھر میں آگیا۔ اس دعوت میں سکھایا جس نے اس بلانے والے کی بات نہ مانی تو ظاہر ہے کہ وہ نہ تو گھر آئے گا اور نہ ہی اس کو کچھ کھانے پینے کو ملے گا۔ اس مثال کا مطلب ہے کہ اس پر بعض فرشتوں کا کہنا ہے کہ یہ تو سو رہے ہیں اور بعض نے کہا کہ ان کی آنکھیں جاگتی ہیں اور دل بیدار رہتا ہے۔

تو فرشتوں نے یہ مطلب بیان کیا کہ وہ گھر جنت ہے اور بلانے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ لہذا جس نے رسول اللہ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ جس نے رسول اللہ کی نافرمانی کی اس بندے نے اللہ کی نافرمانی کی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے لوگوں کی دو قسمیں ہو گئیں۔ جس نے آپ کی بات مانی اس نے اللہ کی مانی اور جنت میں جائے گا۔ جس نے آپ کی بات نافرمانی مانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی وہ جنت میں نہیں جائے گا۔

حضرت ابو موسی رضی اللہ تعالی عنہ حضور اکرم کا ارشاد نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میری اور اس دین کی مثال جس کو دے کر خدا نے مجھے بھیجا ہے۔ اس آدمی جیسی ہے جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا کہ اے میری قوم میں نے اپنی آنکھوں سے دشمن کے بڑے لشکر کو تمہاری طرف آتے ہوئے دیکھا ہے۔

میں تم کو بے غرض ہو کر draw رہا ہوں لہذا یہاں سے بھاگنے میں جلدی کرو۔ چنانچہ اس کی قوم میں سے کچھ لوگوں نے اس کی بات مانی اور سرشام چل دیے اور آرام سے چلتے رہے اور وہ بچ گئے اور اسی قوم میں سے کچھ لوگوں نے اسے جھوٹا سمجھا اور وہیں ٹھہرے رہے۔ تو دشمن کے لشکر نے ان پر صبح صبح حملہ کر کے ہلاک کر دیا اور ان کو ختم رکھ دیا۔

یہ مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے میری بات مانی اور جو دین حق میں لے کر آیا، اس پر عمل کیا۔ اور ان لوگوں کی جنہوں نے میری نافرمانی کی جو دین حق لے کر آیا انہوں نے اس کو بھی جھٹلایا۔