رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: دوچیزیں دیکھتے ہی اپنی بیٹی کا نکاح کردو

دوسروں کو تکلیف دینے سے ملنے والی خوشی سے بچنے کی کوشش کریں۔ کبھی بھی کسی کے ساتھ برا سلوک نہ کریں جو آپ کو ناپسند کرسکتا ہے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو اس کا کردار بدل جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں کسی کا اخلاق پسند ہو تو اپنی بیٹی کا نکاح اس سے کر دو۔بعض اوقات لوگ اچھی باتوں سے آپ کی عزت نہ کر کے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں زندگی میں آپ جو چاہتے ہیں اسے حاصل کریں لیکن اس بات کا خیال رکھیں.کہ آپ کے اعمال کا دوسروں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔

وہاں آپ سے زیادہ مستحق لوگ ہیں۔ جس معاشرے میں ماں بہن کو اکثر مردوں کی طرف سے زیا.دتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہاں عورت کا رتبہ کیسے بلند ہو سکتا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سے ہر کسی کو ان پر افسوس ہوگا۔ بعض اوقات انسان اتنا ناامید اور بے بس محسوس ہوتا ہے کہ وہ مدد کی امید اور دعا کرتا ہے۔ جو یقین سب کی آنکھوں میں چھا جاتا ہے وہ بہنے لگتا ہے۔

انسان ایک لاپرواہ منصوبہ ساز ہےجو اپنی موت کو کبھی خاطر میں نہیں لاتا۔ .اور اللہ کے دین کے مطابق اسلام میں شادی اتنا مشکل نہیں ہے یہ ضابطہ رہا ہے کہ ہم کسی بھی صورت حال میں پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہیں چاہے وہ کتنا ہی بڑا ہو یا چھوٹا. اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ بچے کی جن.س کچھ بھی ہے، قابلیت، آمدنی، یا معاشرے میں اس کا قیام کا مطلب خاندان سے ہونا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ 25 سال کی عمر میں لڑکوں کو ہیرو سمجھا جاتا ہے اور وہ صرف ان کی دولت سے فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں۔

انہیں یہ نہیں بھولنا.چاہئے کہ کسی چیز کے لئے کام کرنا اور اپنا پیسہ کمانا کیسا ہے۔ اس کی عمر 20 سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیےاور جب گھر کے کاموں کی بات آتی ہے تو بہت مضبوط اور عقلمند ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنے دادا دادی کو پیچھے چھوڑ سکے۔ آج کے والدین اپنے بچوں کو کم عمری میں ہی مخالف جن.س کے ساتھ قریبی رابطہ میں لا رہے ہیں، جس کی وجہ سے آج کے نوجوانوں کو اپنے ساتھیوں کی ڈیٹنگ کے مطالبات سے نمٹنا پڑتا ہے۔ ہمارے مذہب میں ایسا کوئی تصور نہیں جو ہمیں اس کی اجازت دیتا ہو۔

درحقیقت ہمارا اسلامی معاشرہ ایسے رویے کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔ آج ہمارے بچے مخلوط تعلیم حاصل کر رہے.ہیں۔ ہم نے انہیں کوئی خاص عقائد یا عمل اپنانے پر مجبور نہیں کیا اور نہ ہی ہم نے انہیں کوئی مذہبی علم یا تعلیم دی۔تو اب وہ کیا کریں۔ وہ اپنے تعلقات پر راضی ہیں جبکہ اسلام میں منگنی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے ہم اپنے بچوں سے لاپرواہی اختیار کرتے ہیں

اور انہیں ناجائز تعلقات کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ پانچ سال تک استعمال ہونے کے بعد دونوں کے ٹوٹنے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ میں ابھی اس کا تذکرہ نہیں کر سکتا جیسے جیسے شادی کی عمر بڑھ رہی ہے، زیادہ سے زیادہ لوگ اسے جلد از جلد حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس کی وجہ سے شادی سے پہلے جن.سی تعلقات کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم نے اپنے بچے بغیر کسی مقصد کے آپ کے حوالے کر دیئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قریبی، جذباتی طور پر اطمینان بخش رشتہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے۔اس کا نتیجہ وہی ہے جو فی الحال دیکھا جا رہا ہے اگرچہ بڑے بچوں یا بڑوں کو گود لینے کے بہت سے فوائد ہیں، لیکن مجموعی طور پر.معاشرہ اکثر ان مخصوص افراد کو گود لینے کے لیے راضی یا راضی نہیں ہوتا۔ جلد ہی آپ سے بات کریں اور اچھے مواد کو جاری رکھیں یقین کریں یا نہیں، آپ کا بچہ کئی سال پہلے ہی بڑا ہو چکا ہے۔ اگر شادی عام ہوتی تو ز.نا ایک مسئلہ ہوتا۔

بچے بڑوں کی طرح لگ سکتے ہیں، لیکن وہ واقعی زندگی کی شروعات کر رہے ہیں۔ یہاں وہ ایک طویل علیحدگی کے بعد اپنے میاں کے ساتھ دوبارہ مل گئے ہیں۔. یہاں تک کہ اگر آپ کی عمر 15 سال ہے، خاص طور پر لڑکیوں کے لیےمیک اپ کا اچھا مجموعہ ہونا ضروری ہے۔ انہیں ہمارے دین پر عمل کرنے میں کیا حرج ہے؟ انہیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ اب اس جملے کو چھوڑو۔ معاشرہ لوگوں کے اعمال سے بنتا ہے لوگ جو چاہتے ہیں وہی ملتا ہے۔ پلیز کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے مجھے بہت غصہ آئے۔ اگر آپ میں ہمت ہے تو لوگ آپ کا ساتھ دیں گے اللہ ہمارے تمام بچوں کے مستقبل کو سنوارے۔ ہاں، آمین

Scroll to Top