رزق کے دروازے کیوں بند ہوتے ہیں؟ کیا یہ گناہ آپ کے گھر میں تو نہیں ہوتے؟
1 min read

رزق کے دروازے کیوں بند ہوتے ہیں؟ کیا یہ گناہ آپ کے گھر میں تو نہیں ہوتے؟

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا یہ گناہ کرنے والے کے گھر میں دولت کبھی نہیں آیا کرتی۔ ایک دفعہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بارگاہ میں ایک شخص حاضر ہو کر کہنے لگا یا علی دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔

جو امیر خاندان میں پیدا ہوئے۔ جب ان کا وصال ہوا تو اس وقت بھی وہ امیر ہی تھے۔ ان سے کبھی بھی رزق ختم نہیں ہوا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا میں ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں۔ جو چند عرصے کے لیے امیر ہوتے ہیں۔ لیکن بعد میں وہ غریب ہو جاتے ہیں۔ رزق ان لوگوں سے چھین لیا جاتا ہے۔ اس شخص نے پوچھا یا علی وہ کون سے ایسے گناہ ہیں۔ جو رزق میں کمی لاتے ہیں اور رزق کو ختم کر دیتے ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اے انسان پانچ گناہ ایسے ہیں۔ جس کو کرنے سے انسان کا رزق ختم ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کے رزق میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس نے پوچھا یاعلی وہ پانچ گناہ کون سے ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا وہ پانچ گناہ یہ ہیں۔

نمبر ایک سود کھانا حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ تعالی کا حکم لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئے۔ فرمایا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو لوگ سود کا کاروبار کرتے ہیں۔ سود پر خرید و فروخت کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو روز محشر اس طرح اٹھایا جائے گا کہ ان کے چہرے مسخ کر دیے جائیں گے۔

ایک بار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں خطاب فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے لوگوں تم میں سے کوئی اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنا پسند کرتا ہے۔ لوگوں نے جواب دیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں ہم کو ایسے گناہ سے سخت نفرت ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اتنا گناہ ماں کے ساتھ زنا کرنے کا نہیں جتنا گناہ سود کھانے والے کو ملتا ہے۔رزق کو ختم کرنے کی اصل وجہ سود کھانا ہے۔

نمبر دو نیک اور متقی پرہیزگار عورت پر تہمت لگانا۔ اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ جو لوگ نیک عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں۔ وہ عورت جو ہر وقت میری رحمت کی آغوش میں رہتی ہے۔ جس ہر گھڑی رحمت کی بارش برستی ہے۔ نماز ادا کرتی ہے باپردہ ہے متقی پرہیزگار ہے۔ جو لوگ ایسی عورت پر تہمت لگاتے ہیں۔ میں اس وقت تک ان لوگوں کو معاف نہیں کروں گا۔ جب تک وہ نیک عورتیں ان کو معاف نہیں کریں گی۔

حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس ایک بوڑھی عورت آئی۔ اس نے کہا اے عیسی علیہ السلام میرا شوہر فوت ہو گیا ہے۔ میں ان سے بہت محبت کرتی تھی۔ اب ہر روز میرا شوہر میرے خواب میں آتا ہے اور مجھے کہتا ہے کہ میری قبر کھود کر دیکھو۔ ایک بار میری قبر کھول کر میرا چہرہ تو دیکھ لو۔ اے عیسی علیہ السلام میں بہت ہی دور سے چل کر یہ مسئلہ آپ کے پاس لے کر آئی ہوں۔

حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا آؤ میں بھی آپ کے ساتھ آپ کے شوہر کی قبر کھودنے کے لیے جاتا ہوں۔ وہ قبرستان پہنچ گئے۔ جہاں اس بڑھیا کے شوہر کی قبر تھی۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے پوچھا تیرے شوہر کی قبر کون سی ہے۔ اس بوڑھی عورت نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بتایا یہ قبر ہے حضرت عیسی علیہ السلام نے قبر پر کھڑے ہو کر اللہ تعالی سے رو رو کر دعا کرتے رہے۔

دعا کرنے کے بعد حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا اے قبر کے اندر سونے والے اللہ تعالی کے حکم سے کھڑا ہو جا۔ اس قبر سے ایک انسان اٹھ کھڑا ہوا جس کو دیکھ کر اس بڑھیا نے زور دار چیخ ماری اور بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ وہ کھڑا ہونے والے انسان کا جسم تو انسان ہی تھا اس کا چہرہ مسخ کر دیا گیا تھا۔ جب تھوڑی دیر کے بعد اس عورت کو ہوش آیا۔

تو حضرت عیسی علیہ السلام نے اس زندہ ہونے والے انسان سے دریافت کیا کہ دنیا میں تو نے کون سا ایسا گناہ کیا تھا جس کے بدلے میں تجھ کو اتنی بڑی سزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس نے کہا کہ میں نیک اور پرہیزگار عورتوں پر تہمت لگا کر ان کا استعمال کیا کرتا تھا۔ جس کی سے مجھے یہ سزا بھگتنا پڑ رہی ہے۔روز محشر میں ان لوگوں کے ساتھ اٹھایا جاؤں گا۔ جن کے چہرے مسخ کر دیے جائیں گے۔

نمبر تین, شرک کرنا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بہت بڑا گناہ ہے۔ روز محشر اللہ تعالی ہر گناہ کو معاف کر سکتا ہے۔ اس کے گناہ چاہے آسمان اور زمین میں موجود چیزوں سے بھی زیادہ ہوں۔ اس انسان کو چاہے تو معاف کر دے گا۔ لیکن شرک کرنے والے کو کبھی بھی معاف کرے گا۔ کافر لوگوں کی کبھی بھی بخشش نہیں ہو گی۔

نمبر چار، چوتھا گناہ جادو کرنا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کسی پر جادو کرنا، کسی کا جینا حرام کرنا، کسی کی خوشیوں کو چھیننے کے لیے اس پر جادو کرنا، اس کو جادو کے ذریعے ختم کرنا۔ حضرت علی نے فرمایا جادو کرنے والا انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ جب کسی جادوگر کی موت ہوتی ہے۔ تو وہ کافر جادوگر کی موت کبھی بھی ایمان پر نہیں ہوتی۔

نمبر پانچ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کسی کو دکھ اور تکلیف دینا سب سے بڑا گناہ ہے۔ کسی کو دکھ دینا کسی کا جینا حرام کر کے خود خوش ہونا۔ کسی کو رلا کر خود ہنسنا سب سے بڑا گناہ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ان پانچ بندوں سے اللہ تعالی روز قیامت سخت حساب لے گا اور دنیا میں ان پانچ سے رزق چھین لیا جائے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک آدمی محروم ہو جاتا ہے۔ رزق سے گناہوں کے سبب جس کو وہ اختیار کرتا ہے۔ اللہ پاک ہمیں ان گناہوں سے بچائے۔ اللہ پاک ہمارے رزق میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں غیب سے کشادہ رزق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین